گھر بیٹھے نادرا ریکارڈ تبدیل کروائیں، مگر کیسے؟ انتہائی آسان طریقہ جانیے

گھر بیٹھے نادرا ریکارڈ تبدیل کروائیں، مگر کیسے؟ انتہائی آسان طریقہ جانیے
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کے لیے گھر بیٹھے شناختی ریکارڈ میں تبدیلی کی سہولت متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت اب نادرا دفتر جائے بغیر قومی شناختی کارڈ اور نائیکوپ کی معلومات میں ترمیم ممکن ہو گئی ہے۔
نادرا اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی شناختی کارڈ، نائیکوپ اور دیگر شناختی دستاویزات فراہم کرنے والا واحد مجاز ادارہ ہے۔ شہریوں کی سہولت کے لیے نادرا نے ڈیجیٹل سروسز کو فروغ دیتے ہوئے پاک آئی ڈی موبائل ایپ متعارف کروائی ہے، جس کے ذریعے متعدد خدمات گھر بیٹھے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
نادرا حکام کے مطابق اگر کوئی شہری اپنے شناختی کارڈ یا نائیکوپ کے ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کروانا چاہتا ہے تو وہ اب نادرا دفتر آئے بغیر صرف پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے کم فیس میں کم وقت کے اندر ریکارڈ اپ ڈیٹ کروایا جا سکتا ہے۔
شناختی ریکارڈ میں ترمیم دو کیٹیگریز میں کی جاتی ہے، جن میں پرنٹ ایبل اور نان پرنٹ ایبل معلومات شامل ہیں۔ پاک آئی ڈی موبائل ایپ میں پرنٹ ایبل معلومات کی ترمیم کے لیے "اپ ڈیٹ کارڈ” جبکہ نان پرنٹ ایبل معلومات کی ترمیم کے لیے "اپ ڈیٹ انفُو” کا آپشن دیا گیا ہے۔
پرنٹ ایبل معلومات وہ ہوتی ہیں جو شناختی کارڈ پر واضح طور پر درج ہوتی ہیں، جن میں نام، والد یا شوہر کا نام، تاریخ پیدائش اور موجودہ یا مستقل رہائشی پتہ شامل ہیں۔ ان معلومات میں تبدیلی کی صورت میں نیا شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔
جبکہ نان پرنٹ ایبل معلومات وہ ہوتی ہیں جو نادرا ریکارڈ میں محفوظ ہوتی ہیں مگر شناختی کارڈ پر پرنٹ نہیں ہوتیں، جیسے پیدائش کی تفصیلات، خاندانی ریکارڈ، ازدواجی حیثیت، تعلیمی معلومات اور مادری زبان وغیرہ۔
نادرا کے مطابق ازدواجی حیثیت میں ترمیم کے حوالے سے یہ امر قابل توجہ ہے کہ مرد حضرات ہر قسم کی تبدیلی کروا سکتے ہیں، تاہم غیر شادی شدہ سے شادی شدہ کی تبدیلی پرنٹ ایبل کیٹیگری میں آتی ہے کیونکہ اس صورت میں شناختی کارڈ پر شوہر کا نام پرنٹ ہوتا ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











