منگل، 13-جنوری،2026
منگل 1447/07/24هـ (13-01-2026م)

استعمال شدہ موبائل فون خریدنے والوں کیلئے بُری خبر؛ حکومت کا اہم فیصلہ

06 جنوری, 2026 14:35

وفاقی حکومت نے موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ کے شعبے میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے نئی پالیسی 2026-33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

 یہ پالیسی وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری کی گئی ہے اور اس کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا ہے۔ پالیسی کی تیاری میں انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) اور مقامی موبائل فون مینوفیکچررز نے تعاون کیا۔

 اس میں بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ماڈلز کو بطور نمونہ مدنظر رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس پالیسی کو پیش کیا گیا اور اس کے مقاصد، نفاذ کے طریقہ کار اور مقامی اسمبلنگ کے فوائد پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پالیسی کے مطابق مقامی اسمبلنگ کو ترجیح دی جائے گی اور درآمد شدہ موبائل فونز کے مقابلے میں مقامی پیداوار کو ٹیکس اور ٹیرف میں مراعات دی جائیں گی۔ اسمبلنگ کے لیے کم از کم پرزہ جات کی تعداد بھی مقرر کی گئی ہے، جس میں اسمارٹ فونز کے لیے 40 اور فیچر فونز کے لیے 15 پرزہ جات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ معیار کی تصدیق بہتر طور پر کی جا سکے۔

پالیسی میں ویلیوایشن رولنگز کو ادارہ جاتی شکل دینے اور انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ درآمدات کے دوران مکمل تیار شدہ موبائل فونز (سی بی یو) اور مقامی طور پر تیار شدہ موبائل فونز کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ برآمدی اہداف کو ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (ٹی آئی ایف) سے منسلک کرنے اور ای ویسٹ مینجمنٹ کے لیے محتاط حکمتِ عملی اپنانے کی ہدایات بھی شامل کی گئی ہیں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔